atOptions = { 'key' : '752b82759e2c73f1165bfbd1e11efc85', 'form

Wednesday, December 30, 2020

کھانسی، نزلہ، زکام میں لیموں کا استعمال مفید

کھانسی، نزلہ، زکام میں لیموں کا استعمال مفید

موسم کے بدلتے ہی بہت سی بیماریاں ہر گھر میں ڈیرہ جما لیتی ہیں جن سے بچنا مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے، یہ بیماریاں کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو زیادہ متاثر کرتی ہیں جن کا علاج قدرتی غذا لیموں سے کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین غذائیت کے مطابق وٹامن سی سے بھر پور لیموں متعدد بیماریوں سے نجات کے لیے مدد گار ثابت ہوتا ہے، لیموں موسمی بیماریوں سے بچانے کے ساتھ قوت مدافعت بھی مظبوط کرتا ہے۔ 

طبی ماہرین کی جانب سے حاملہ خواتین، صحت مند وزن بر قرار رکھنے، وزن میں کمی، چست و توانا، جسم سے مضر صحت مادوں کے اخراج، گردوں سے پتھری کے خاتمے، صاف شفاف جِلد سمیت صحت سے متعلق متعدد فوائد حاصل کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر لیموں پانی کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔

موسم سرما کی سختیوں سے بچنے کے لیے اور نزلہ، زکام ، کھانسی اور ناک بہنے جیسی چھوٹی موٹی بیماریوں سے نجات کے لیے قدرت نے شہد میں بھی شفا کا خزانہ چھپا رکھا ہے، شہد کے ساتھ اگر لیموں بھی ملا لیا جائے تو اس سے حیرت انگیز فوائد حاصل ہوتے ہیں، لیموں پانی اور شہد کا استعمال کھانسی اور گلے کی سوزش میں آرام پہنچاتا ہے۔

نزلہ زکام میں لیموں کا استعمال کا طریقہ:

لیموں خشک کھانسی اور گلے کی سوزش میں بہت مفید ہے، لیموں میں پایا جانے والا وٹامن سی قوت مدافعت میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور نزلہ ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں سے بچنے کے لیے صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

چار لیموں کا رس نکالیں اور چھلکوں کو ایک برتن میں ڈال دیں، ایک کھانے کا چمچ ادرک لے کر اسے بھی اس برتن میں ڈال دیں، اب اس برتن میں اُبلتا ہوا پانی ڈالیں یہاں تک کہ یہ ساری چیزیں پانی میں بھیگ جائیں، برتن کو ڈھک کر دس منٹ کے لیے چھوڑ دیں ۔

اب اسے چھان کر ایک کپ الگ کر لیں، اس محلول میں برابر مقدار میں نیم گرم پانی شامل کرکے حسب ذائقہ شہد ملا لیں۔

اس قہوے کو نیم گرم کر کے  دن میں دو سے تین مرتبہ پئیں اور بچوں کو بھی پلائیں۔

ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے شہد کی جگہ چینی استعمال کریں۔

لیموں کے بچ جانے والے رس کا استعمال شہد کے ساتھ ملا کر کیا جا سکتا ہے۔

فوراً آرام کے لیے سردیوں میں لیموں کا استعمال شہد کے ساتھ کیسے کیا جائے ؟

موسم سرما میں گلے کی خرابی سے لے کر ناک کے بند ہونے کے  علاج تک لیموں کا شہد کے ساتھ استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔

دن میںدو  سے تین بار دو چائے کے چمچ شہد میں ایک چمچ لیموں کا رس مکس کر کے اگر پی لیا جائے تو اس سے صحت پر تیزی سے مثبت اثر آتا ہے، لیموں اور شہد سے بنا یہ مرکب بچوں کو بھی پلایا جا سکتا ہے۔

 

Tuesday, October 13, 2020

.وزن میں کمی یا پیٹ کی چربی گھلانے کے لیے بلیک ٹی کا استعمال کافی فائدہ


 جب چائے ہے تو.. وزن میں کمی کیلئے کچھ اور کیوں


ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے قارئین موٹاپے کا شکار ہوں، یہی وجہ ہے کہ ہم ہر کچھ عرصے بعد اپنے قارئین کو مقبول ڈائٹنگ پلان ،سیلیبرٹیز ڈائٹنگ یا ورک آؤٹ روٹین سے متعلق آگاہی فراہم کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ آپ بھی ان پر عمل کر تے ہوئے وزن بڑھ جانے کے خوف سے آزاد رہیں۔ آج ہم آپ کو موٹاپے سے نجات حاصل کرنے کے لیے کسی ڈائٹ پلان کے بجائے ایک ایسے مشروب سے متعلق آگاہی فراہم کرنے جارہے ہیں، جو یقیناً کسی نہ کسی صورت آپ کی ڈائٹ روٹین میں شامل ہوگا۔

چائے ایک ایسا مشروب ہے، جس کے ذائقے سے دنیا بھر کے افراد لطف اندوز ہوتے ہیں اور پاکستانی تو کچھ زیادہ ہی اس کے دلدادہ ہیں۔ چائے کے فوائد اور نقصانات پر دنیا بھر میں طویل عرصے سے ایک لمبی بحث جاری ہے، تاہم آج ہم چائے کی اُن اقسام کے بارے میں بات کریں گے ،جو نہ صرف صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ ان کی بدولت وزن میں کمی بھی لائی جاسکتی ہے۔محققین کے مطابق چائے میں ایسے مرکبات دریافت کیے گئے ہیں، جوکیلوریز کے اخراج کے عمل کو تیز کرتے ہوئے جسم میں فیٹس کو کم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ 

چائے کے پودے کا سائنسی نام كکیمیلیا سائنیسس(Camellia Sinensis) ہے، یہ ایک منفرد جڑی بوٹی ہے جس کے ذریعے پانچ اقسام کی چائے بنائی جاتی ہے۔ ان میں سفید، اوولونگ (Oolong)، زرد، سبز،پو -ارہ (Pu-erh) اور کالی چائے شامل ہیں۔ چائے میں دودھ اور چینی کی کثرت زائد وزن کم کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیتی ہے۔ اگر آپ بطور ڈائٹنگ چائے کا استعمال چاہتے ہیں تو چائے کی مختلف اقسام میں سے کسی ایک کو اپنے روزمرہ معمولات کا حصہ بنائیں، جو وزن کم کرنے میں مفید ثابت ہوسکتی ہیں ۔

سبز چائے (

کیمیلیا سائنیسس (جڑی بوٹی)سے بنائی جانے والی چائے میں سبز چائے کو ایک خاص مقام حاصل ہے، جودنیا بھر میں ایک مقبول مشروب کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ وزن میں کمی کے لیے اسے مؤ ثر مشروب قرار دیا جاتا ہے۔2008ء میں وزن میں کمی سے متعلق گرین ٹی کے لیے 60افراد کو مطالعہ میں شامل کیا گیا اور انھیں باقاعدگی کے ساتھ روزانہ سبز چائے پلائی گئی۔

12ہفتےبعد ان افراد کے وزن میں 3.3کلوگرام کی کمی دیکھنے میں آئی۔ نتیجے کے طور پر ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ ایک کپ سبز چائے انسانی جسم کوتمام اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہے اور میٹابولزم کو بڑھا کر چربی جلانے کا عمل تیز کرتی ہے۔


پو- ارہ چائے


کیمیلیا سائنیسس سے بنائی جانے والی چائے میں پو-ارہ چائے دوسرے نمبر پر ہے ۔ اس چائے کو چائنیز قہوہ کی ایک قسم بھی کہا جاتا ہے۔ کیمیلیا سائنیسس ماضی میں صرف مشرقی ایشیا میں پائی جاتی تھی، اب یہ بھارت اور پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اُگائی جاتی ہے۔ اس چائے سے عام طور پر کھانے کے بعد لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ 

پاکستان کے کئی شہروں میں بھی پو-ارہ چائے مختلف فوائد کی بدولت استعمال کی جاتی ہے۔ جانوروں پر کی گئی تحقیق کے مطابق پو-ارہ ٹی بلڈ شوگر لیول کم کرنے میں بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مطالعوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ چائے کی یہ قسم وزن کم کرنےمیں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

کالی چائے


وزن میں کمی یا پیٹ کی چربی گھلانے کے لیے بلیک ٹی کا استعمال کافی فائدہ مند ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بلیک ٹی کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ پی جانے والی چائے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 

طبی جریدے یورپین جرنل آف نیوٹریشن میں شائع شدہ تحقیقی نتائج کے مطابق بلیک ٹی جسمانی وزن میں کمی کے ساتھ ساتھ دیگر طبی فوائد کا باعث بھی بنتی ہے۔ کیونکہ اس میں موجود کیمیکلز خون اور ٹشوز میں جذب ہوجاتے ہیں، جس کے باعث اس چائے کا استعمال انسان کے وزن میں کمی اور اچھی صحت میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

سفید چائے


سفید چائے رنگت میں ہلکی سنہری مائل ہوتی ہے، جس کا ذائقہ بہت لطیف ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سبزچائے، رنگت میں قدرے سبزی مائل اور ذائقے میںسفید چائے سے قدرے تیز ہوتی ہے۔ روایتی چائے کی بہ نسبت سفید چائے کیمیلیا سائنیسس نامی جڑی بوٹی کی نرم کلیوں سے بنائی جاتی ہے۔ 

انہیں انتہائی محتاط طریقے سے اس وقت تک سورج کی روشنی میں خشک کیا جاتا ہے، جب تک یہ پتیاں سنہری مائل رنگت کی نہیں ہو جاتیں۔ ماہرین کے مطابق سفید چائے اور سبز چائے دونوں میں موجود اجزا ایک ہی طرح سے انسانی وزن میں کمی لانے کا باعث بنتے ہیں 

“Making a Living Online: A Step-by-Step Guide

  “Making a Living Online: A Step-by-Step Guide “Making a Living Online: A Step-by-Step Guide Introduction: The internet has transformed th...